Articles by "کالم"
کالم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

 کوئی ایک آدھ آدمی/ مظہر برلاس


 پاکستان کی سول سروس میں کوئی نہ کوئی قدرت اللہ شہاب یا نسیم انور بیگ جیسا آدمی آہی جاتا ہے۔ ان جیسے اور بھی کردار ہوں گے مگر صرف دو کا حوالہ دے رہا ہوں کہ لوگ قدرت اللہ شہاب کو خوب جانتے ہیں، نسیم انور بیگ تو ابھی کل تک محفل جمایا کرتے تھے، گفتگو پاکستان کے گرد گھومتی تھی، دنیا میں ہونے والی ناانصافیوں کا تذکرہ ہوتا تھا، شہاب نامے کے کئی واقعات لوگوں کا ایمان تازہ کرتے ہیں

۔ عجیب بات ہے جو بھی




 پاکستان سے محبت کرتا ہے، قدرت اس کا نام روشن کردیتی ہے اور جو کوئی پاکستان سے بددیانتی کرتا ہے، رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ آج میں عہدِ حاضر کی بیوروکریسی میں شامل ایک شخص کا تذکرہ کرنے جا رہا ہوں، ہو سکتا ہے میں اس کا نام نہ لکھ سکوں مگر اس کے حالات سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ قدرت کیا کر سکتی ہے، تلخیوں کا دریا عبور کرنے والے کس طرح پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔یہ شخص سندھ کے ضلع خیرپور کے ایک عام سے گاؤں میں پیدا ہوا۔ ان کے گھر میں غربت انتہائوں کو چھو رہی تھی، یہ شخص بھوک، افلاس اور بےبسی میں پیدا ہوا۔ بچپن میں شوق پیدا ہوا کہ تعلیم حاصل کی جائے مگر سوال یہ تھا کہ شوق کی تکمیل کیسے ہو؟ اپنے گاؤں میں تو پرائمری اسکول بھی نہیں تھا ، ہاں چند کلومیٹر دور دوسرے گاؤں میں ہے۔ اس نے بھوک، افلاس اور بےبسی کےسامنے ہمت کو رکھ دیا۔ وہ دوسرے گاؤں میں گیا اور پہلی جماعت میں اپنا نام لکھوا آیا۔ اب ایک اور مرحلہ تھا کہ بستہ اور بستے کی چیزیں کہاں سے پوری کی جائیں؟ وہ ہر روز کلاس میں جاتا، کاپی، قاعدے اور بستے کی وجہ سے مار کھاتا، سبق دوسروں کی کتاب دیکھ کر یاد کر لیا کرتا۔ استاد اسے مارتا اور پوچھتا... ’’بستہ کیوں نہیں لائے، قاعدہ کہاں ہے، کاپی کدھر ہے؟...‘‘ وہ استاد کے سامنے خاموش رہتا۔ اسے مار پڑتے ہوئے کئی دن بیت گئے تو ہیڈ ماسٹر کو پتہ چل گیا کہ ہمارے اسکول میں ایک لڑکے کو مار محض اس لئے پڑتی ہے کہ اس کے پاس نہ بستہ ہے، نہ کتابیں۔ ہیڈ ماسٹر نے لڑکے کو بلوایا اور بستہ، کاپی، کتاب کے لئے کچھ پیسے دیے مگر لڑکے نے انکار کردیا، کہنے لگا... ’’جناب عالی! میری غیرت اجازت نہیں دیتی کہ یہ پیسے لوں، میں 14اگست کو تقریری مقابلے میں حصہ لوں گا، انعام جیتوں گا اور انعام کی رقم سے یہ سب چیزیں خرید لوں گا...‘‘ ظالمانہ رویہ رکھنے والے ماسٹر کو ہیڈ ماسٹر کی اس کرم نوازی کا علم ہوا تو اس نے لڑکے پر مزید ڈنڈے برسانا شروع کردیے۔ بس پھر ایک دن 14اگست آگیا، اس نے تقریری مقابلے میں حصے لیا، وہ جیت گیا لیکن وہی استاد ججوں میں شامل تھا، سب نے کہا کہ یہ لڑکا پہلے نمبر پر ہے مگر جج صاحب نے اسے دوسرے نمبر پر کردیا۔ اسے دوسرا انعام ملا اور سچل سرمست کی دھرتی کے فرزند نے استاد کی عزت کی خاطر اسے قبول کر لیا۔پرائمری پاس کی تو مڈل اسکول کے لئے تھوڑا اور دور جانا پڑا۔ وہاں صرف کتابوں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ فیس بھی درکار تھی۔ اس نے جمع شدہ انعامی رقم سے فیس تو ادا کردی مگر کتابیں نہ لے سکا، کتابوں کی خریداری کے لئے اسے پھر سے 14اگست کا انتظار کرنا پڑا۔ مڈل کے بعد میٹرک کے لئے کوٹ ڈیجی جانا پڑا۔ اب اس نے اتنی رقم جمع کررکھی تھی کہ فیس اور کتابوں کا مسئلہ حل ہو گیا۔ ایف ایس سی میں خیر پور داخل ہوا تو پھر غریبی راہ میں حائل ہو گئی، اب فیس اور کتابوں کے علاوہ ہوسٹل

Hostel

 کے اخراجات کا بھی سامنا تھا، یہاں بس تھوڑی دیر رہا اور گمبٹ میں داخلہ لے لیا، گمبٹ، خیر پور کی ایک تحصیل ہے، داخلہ ہو گیا مگر رہنے کا مسئلہ تھا پھر ماموں کی سفارش پر ایک صاحب نے رہائش دی لیکن یہ رہائش عجیب تھی، لڑکے کو بھینسوں کے باڑے میں سونا پڑتا، ہاں کھانا اسے مل جاتا تھا۔ یہاں اس نے ٹیوشنز پڑھائیں اور بی ایس سی کر گیا۔ بس وہ اتنا ہی پڑھ سکتا تھا، اس پر پہاڑ جتنی ذمہ داریاں تھیں، اس نے فارما سیوٹیکل کمپنی جوائن کی مگر یہاں اس کی دیانتداری آڑے آگئی، اس کا کہنا تھا کہ...’’جب ہماری دوائیاں اچھی ہیں تو ہم ڈاکٹروں کو پیسے کیوں دیں یا پھر ہماری دوائیاں اچھی نہیں ہیں، اس لئے ہم ڈاکٹروں کو پیسے دیتے ہیں...‘‘اس سوال کا جواب نہ ملا تو نوکری چھوڑ دی، اس نے اس طرح کی تین نوکریاں چھوڑیں پھر لاڑکانہ سے ایک اخبار شروع کیا، اخبار کےذریعے کرپشن کے خلاف جہاد کا آغاز کیا تو مافیا سرگرم ہوگیا، اخبار کو کہیں سے کوئی اشتہار نہیں ملتا تھا، اسے بند کرنا پڑا۔



اب نوکری کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، اس نے سی ایس ایس کا امتحان دیا، پاس کیا تو فارن سروس کا گروپ ملا، وہ دفتر خارجہ میں گیا، اس کی ڈیوٹی ایک بابو کے ساتھ لگائی گئی، بابو نے معذرت کی کہ یہ لڑکا کسی بڑے تعلیمی ادارے سے نہیں پڑھا، میں اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا، ایک کے بعد دوسرے بابو نے انکار کیا تو ڈائریکٹر ایڈمن

Director Admin

 کہنے لگا... ’’ بجٹ میں کوئی شخص نہیں جاتا، میں آپ کو بجٹ میں بھیج رہا ہوں‘‘ ...یہ بجٹ سیکشن میں چلا گیا، محنت نے رنگ دکھانا شروع کیا، اس وقت سیکرٹری خارجہ انعام الحق تھے، جب بھی ضرورت ہوتی انعام الحق اپنے اسٹاف سے کہتے... ’’نہ ڈی جی کو بلائو اور نہ ہی ڈائریکٹر کو، بس اس نوجوان سندھی سیکشن افسر کو بلا لو، اسے سب کچھ زبانی یاد ہے... ‘‘ اس کے بعد ’’انکاری بابوئوں‘‘ نے کہا ہمارے ساتھ آجائو مگر پھر اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔یہ شاندار افسر اب بھی وزارت خارجہ میں ہے، اسے کسی بڑے ملک میں اس لئے نہیں بھیجا جاتا کہ اس کی لابنگ نہیں۔ وہ پاکستان سے محبت کرتا ہے، ہر وقت ملک کا سوچتا ہے، وہ جہاں جاتا ہے وہیں پاکستان کا نام روشن کردیتا ہے مگر اسے ایسے حالات کا سامنا ہے کہ بقول منیر نیازی ؎اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کومیں اک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا


نام بتائے دیتے ہیں

ا مظہر برلاس

پچھلے ہفتے وزارتِ خارجہ کے ایک افسر پر کالم کیا لکھا کہ ملک و بیرون ملک سے بےشمار قارئین نے پاک دھرتی کے اس ہیرے کا نام پوچھا جس نے غربت کی کوکھ میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور پھر سی ایس ایس کرکے شاندار خدمات انجام دے رہا ہے۔کالم کی طوالت کے خوف سے کچھ باتیں رہ گئی تھیں، پہلے وہ باتیں پھر کام اور پھر نام۔وہ غریب ضرور تھا مگر کلاس میں اول آتا تھا۔ کالج دور میں وہ مچھروں والی جگہ، بھینسوں کے باڑے میں سوتا تھا لیکن کلاس میں سی آر تھا، وہ اساتذہ کو پیریڈ میں لیٹ نہیں ہونے دیتا تھا۔کالج کے کئی لیٹ آنے والے ٹیچر اُس سے نالاں تھے مگر وہ اس ناراضی کی پروا نہیں کرتا تھا بلکہ اس کا موقف تھا کہ جب اساتذہ حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں تو انہیں پڑھانا بھی چاہئے۔ ان اساتذہ 

نے سارا غصہ پریکٹیکلز

Practicals



 کے وقت نکالا اور اسے بہت کم نمبر دے کر صرف پاس کیا۔دورانِ تعلیم اس نے نوکری کے لئے کوشش کی مگر ناکام رہا کہ سفارش ہی نہیں تھی، اس نے پرائمری اسکول کا ٹیچر بننا چاہا تو ناکامی ملی پھر ہائی اسکول کا استاد بننا چاہا مگر یہاں بھی کامیابی نہ مل سکی۔ان ناکامیوں کے باوجود اس نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا، جب وہ کالج سے یونیورسٹی گیا تو داخلہ فیس کے لئے ڈھائی سو روپے نہیں تھے، والد سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ’’بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے مزدوری کرتا ہوں، میرے پاس ڈھائی سو روپے نہیں ہیں‘‘ باپ کا جواب سن کر اس نے کہا کہ ’’کچھ بھی ہو جائے میں نے پڑھنا ہے‘‘۔بیٹے کا تعلیمی شوق دیکھ کر باپ نے ڈھائی سو روپیہ مجبوراً سود پر لیا اور بیٹے کو داخلہ فیس دے دی مگر صرف ڈھائی سو روپے سے کام کیسے چلتا؟ یہاں تو ہوسٹل میں رہنا تھا، تعلیمی اخراجات بھی تھے۔اس نے اس کا بھی حل نکالا، وہ سیدھا یونیورسٹی

University

 کی مسجد کے امام کے پاس گیا، اسے کہا کہ رہنے کیلئے جگہ چاہئے۔ امام مسجد نے اس شرط پر رہنے کی اجازت دی کہ اسے کچھ بچوں کو پڑھانا ہوگا۔ خیر رہائش مل گئی مگر کچھ عرصے بعد اس نے یونیورسٹی کے طلبا کے لئے سائنس لیبارٹری کی اشیاء کا مطالبہ کر دیا۔وائس چانسلر کو پتہ چلا کہ یہ لڑکا یونیورسٹی کی سینٹرل مسجد میں رہتا ہے تو وی سی بہادر کا اختیار جاگا، اس نے امام مسجد کو بلوایا اور کہا کہ اس لڑکے کو فوراً نکال دو، ورنہ تمہاری نوکری ختم۔ امام مسجد نے نوکری بچائی اور اس لڑکے نے بھی کہیں اور بندوبست کر لیا۔وہ تین برس یونیورسٹی میں پڑھا اور ان تین برسوں میں وہ صرف دوپہر کا کھانا کھاتا تھا، ایسا نہیں تھا کہ وہ یہ کام شوق سے کرتا تھا، اس کی غربت تین وقتوں میں صرف ایک وقت کے کھانے کی اجازت دیتی تھی۔ اس دوران اس کا وزن ہمیشہ 45سے 48کلو کے درمیان رہا۔وزن خاک پورا ہوتا، جب کھانا ہی ایک وقت ملتا ہو تو پھر انڈر ویٹ ہونا تو یقینی ہو جاتا ہے۔ ان تین برسوں میں ایک دن ایسا آیا کہ اس کے پاس دوپہر کے کھانے کے لئے بھی پیسے نہ رہے۔ جب ہر طرف بےچارگی نظر آئی تو وہ اپنے خدا کے حضور پیش ہوا، اللہ سے نوکری مانگی، قدرت نے مہربانی کی تو اگلے ہی دن کوئی شخص اسے ڈھونڈتا ہوا آ گیا۔یوں اسے نوکری مل گئی، کچھ عرصے بعد یہ نوکری چھوڑ دی کہ مالکان کرپشن سے باز نہیں آتے تھے۔ پھر اخبار نکالا، پیسے ختم ہوئے Englishتو انگریزی

 زبان سکھانے کے لئے ایک لینگوئج 

Language

 سنٹر بنا لیا، ساتھ ہی یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلہ لے لیا۔ اب اس کی چار ڈیوٹیاں تھیں۔اپنے بیوی بچوں کے لئے روزی روٹی کا بندوبست کرنا، لینگوئج سنٹر کو کامیابی سے چلانا، یونیورسٹی میں خود پڑھنا اور اس کے بعد سی ایس ایس کی تیاری کرنا۔ اس کا یونیورسٹی میں شعبۂ انگریزی کے سربراہ سے اختلاف ہوا، اس کا موقف تھا کہ انگریزی کے استاد ہمیں ہفتے میں صرف ایک دو دن پڑھاتے ہیں، پورے چھ دن کیوں نہیں پڑھاتے؟وائس چانسلر کچھ نہ کر سکا تو اس لڑکے نے گورنر سندھ معین الدین حیدر کو خط لکھ دیا، گورنر کی مداخلت کے بعد شعبۂ انگریزی کے اساتذہ نے پڑھانا تو شروع کر دیا لیکن شعبے کا سربراہ اس لڑکے کے خلاف ہو گیا، اس نے بڑی خاموشی سے فیڈرل سروس کمیشن کے چیئرمین کو خط لکھا کہ ’’فلاں نام کے لڑکے نے سی ایس ایس کا امتحان دیا ہے مگر وہ سندھو دیش کا حامی ہے، جئے سندھ کے لئے کام کرتا ہے‘‘۔اس نے تحریری امتحان پاس کیا، اسے انٹرویو کے وقت سارے سوال جی ایم سید، سندھو دیش اور جئے سندھ پر کئے گئے، وہ بہت حیران تھا کہ مجھے یہ سوال کیوں کئے گئے ہیں، خیر وہ کلیئر ہو گیا مگر اس کا گروپ انفارمیشن آیا لیکن اس کی خواہش فارن افیئرز تھی، اس نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا، اس دوران وہ آرمی پبلک کالج پنوں عاقل میں لیکچرار بھرتی ہو گیا، اس نے وہاں ایک بریگیڈیئر کو یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے سربراہ کی طرف سے لکھے گئے خط کا قصہ سنایا تو فوجی سیدھا ہو گیا، اس نے اس پروفیسر کو بلا کر پوری طرح چابی دی اور کہا ’’تم نے پنجابیوں کو بدنام کیا ہے، تم ایک غیرت مند اور محب وطن سندھی کو غدار ثابت کرنا چاہتے ہو، تم سے اس کی ذہانت برداشت نہیں ہوئی‘‘۔اس چابی کے بعد پروفیسر نیا خط لکھنا بھول گیا۔ اس نے دوبارہ سی ایس ایس کیا، اس مرتبہ اسے کسی نے سندھو دیش کا نہ پوچھا، کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ جئے سندھ کونسی جماعت ہے؟ اب کی بار وہ اپنے پسندیدہ گروپ میں آ گیا۔اس نے دفتر خارجہ کو جوائن کیا تو ’’ڈومیسائل‘‘ کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ابھی تو ادھوری باتیں مکمل ہوئی ہیں، اگلے کالم میں اس مرد مجاہد کے وہ کام لکھوں گا جو اس نے وطن کی محبت میں کئے۔ ساتھ ہی اس کا نام بھی بتا دوں گا۔ فی الحال افتخار عارف کا شعر پیش خدمت ہے کہ ؎مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نےوہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے.


حصہ دوم

 گزشتہ دو کالموں میں جس شخصیت کا تذکرہ ہوا اُس سے متعلق لوگوں کی تشنگی بڑھی مگر عرض کیا تھا کہ پہلے کام پھر نام بتائوں گا۔سی ایس ایس تک پہنچنے سے پہلے اسے شدید بیماری سے گزرنا پڑا، وہ اپنے پروفیسر کے ساتھ مل کر ٹی بی پر ریسرچ کر رہا تھا کہ اسے خود ٹی بی ہو گئی، وہ بستر پر پڑا تھا تو ایک عورت نے اس کے والدین سے کہا ’’آپ کا ذہین اور خوبصورت بچہ مر رہا ہے‘‘۔آواز کان میں پڑی تو کہنے لگا ’’محترمہ! کسی بیمار سے متعلق ایسے نہیں کہتے، میں مروں گا نہیں، ان شاء اللّٰہ زندہ رہوں گا‘‘۔ اس نے دعا کی کہ اے خدا مجھے اس حالت میں موت نہ دینا بلکہ امام حسینؓ کی طرح شہادت دینا۔وہ ٹھیک ہو گیا، سی ایس ایس کر کے وزارتِ خارجہ میں گیا تو ایک صاحب اور صاحبہ نے اُسے محض ڈومیسائل کی وجہ سے قبول نہ کیا، ساتھ ہی تبصرہ فرمایا کہ یہ کسی بڑے ادارے کا پڑھا ہوا نہیں۔وہ بجٹ سیکشن میں چلا گیا، اس نے سیکرٹری خارجہ انعام الحق کو بےحد متاثر کیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ اسے وہ گائوں یاد آیا جہاں غربت کے آنگن میں آنکھ کھولی تھی، اس نے گائوں میں اسکول قائم کیا، غریب ذہین بچوں کیلئے 30فیصد کوٹہ مقرر کیا تاکہ کوئی غربت میں جنم لینے والا بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔ایک کلینک بنایا کہ غریب کا علاج بھی ہو سکے، اب وہ گائوں میں ووکیشنل کالج بنوا رہا ہے، لوگوں کی خدمت کیلئے وہ سیاست کرنا چاہتا تھامگر غربت سفارت کاری کی طرف لے آئی۔شاید یہ ہمارا اکلوتا سفارت کار ہے جو اپنے بچوں کے لئے نہ کسی ملک کی شہریت چاہتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک سے کوئی ذاتی فائدہ۔ جہاں جاتا ہے صرف پاکستان اور پاکستانیوں کا سوچتا ہے، اسے کبھی ڈھنگ کی پوسٹنگ نہیں دی گئی بلکہ جہاں کوئی نہیں جاتا، اسے بھیج دیا جاتا ہے۔وہ جہاں بھی گیا مشکلات اس کی منتظر تھیں، کبھی اسے عراق بھیج دیا گیا تو کبھی یمن مگر اس نے ہمیشہ پاکستان کیلئے کام کیا۔ وہ جدہ میں قونصل جنرل نہیں بلکہ پاسپورٹ انچارج تھا، اس نے جدہ میں بڑا اسکینڈل پکڑا، پاکستانی قونصل خانے سے غیرملکیوں کو پاکستانی پاسپورٹ بیچے جاتے تھے، بڑے خریداروں میں افغانی اور برمی تھے، اس نے اسٹینڈ لیا، جونیئر افسر ہوتے ہوئے اپنے سینئر کے خلاف انکوائری کروائی اور یہ سلسلہ رکوایا، کیریئر کو دائو پر لگا کر یہ کام کیا۔اکتوبر 2005میں زلزلہ آیا تو اسے فکر لاحق ہوئی، وہ دن بھر ڈیوٹی دیتا اور شام کو زلزلہ زدگان کے لئے امدادی اشیاء اور چندہ اکٹھا کرتا۔خدمات کے صلے میں جب اعزازات کے لئے فارم بھرے جا رہے تھے تو اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’’یہ خدمات تو میں نے اپنے ہم وطنوں کے لئے انجام دی ہیں، اس لئے نہیں کہ تمغے ملیں بلکہ اپنے لوگوں کی خدمت کرنا مجھ پر فرض ہے‘‘۔جدہ سے ٹرانسفر ہواتو پاکستانیوں نے محبت دکھائی، اس کے لئے 72تقریبات منعقد کی گئیں پھر یمن میں پوسٹنگ کر دی گئی، وہ یمن میں صرف پانچ مہینے قائم مقام سفیر رہا، اس نے پاکستان انٹرنیشنل اسکول کو بہترین بنایا اور پاکستان کی برآمدات کو ڈبل کر دیا، اس طرح وہ وزارتِ خارجہ کا پہلا افسر بنا، جن کو منسٹری آف کامرس نے آئوٹ اسٹینڈنگ پرفارمنس ایوارڈ دیا۔یمن میں ایک سیاسی سفیر آ گیا، اسے آتے ہی یہ فکرمندی ہوئی کہ ڈپٹی ایمبیسڈر بہت مقبول ہے۔ یمن میں ایک سعودی اسپتال میں پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کی تنخواہیں روکی گئیں تو یہ مردِ مجاہد کھڑا ہو گیا اور ہم وطنوں کی تنخواہیں نکلوانے میں کامیاب رہا۔اس پر سیاسی سفیر نے وزیراعظم گیلانی کو خط لکھا کہ ’’ہمارے ڈپٹی ایمبیسڈر نے امریکہ کے خلاف "DEATH OF AMERICAN EMPIRE"نامی کتاب لکھی ہے‘‘، واضح رہے کہ یہ کتاب 2008میں لکھی گئی تھی۔خیر سیاسی سفیر کے کہنے پر اسے نائیجیریا ٹرانسفر کر دیا گیا، وہاں پہلے ہی سال ایکسپورٹ ڈبل ہو گئی تو منسٹری آف کامرس نے دوبارہ آئوٹ اسٹینڈنگ پرفارمنس ایوارڈ دیا۔ اتنا کام کیا کہ گیارہ سو بزنس مینوں کو پاکستان بھجوایا، وفود کا تبادلہ ہوا، نائیجیریا کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، پاکستان کا دورہ کرنے والے نائیجیریا کے یہ دوسرے صدر تھے۔نائیجیریا میں ایک نان کیریئر ڈپلومیٹ خائف ہوا تو الزامات کے ساتھ شکایت کر دی، اسے ہٹا دیا گیا، بحال ہوا تو نائیجیریا سے جڑے ہوئے افریقی ملک نائیجر بھیج دیا گیا، ایک سال میں وہاں سے بھارتی لابی کا صفایا کیا، پاکستان کی برآمدات کو ایک ملین سے 26ملین ڈالرز تک پہنچایا۔جب موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس مجاہد کو دیکھا تو پہلے بہت تلملائے مگر پھر کارکردگی دیکھ کر اتنے معترف ہوئے کہ سیکرٹری خارجہ سے کہنے لگے ’’مجھے اس طرح کے سفیر چاہئیں جو بظاہر درویش دکھائی دیں مگر ان کی کارکردگی شاندار ہو‘‘۔پھر سیکرٹری خارجہ نے کہا ’’یہ ہمارے زبردست اور شاندار سفیر ہیں‘‘، اس آدمی کا نام احمد علی سروہی ہے، جوآج کل نائیجر میں پاکستان کا سفیر ہے، اس کی وجہ سے نائیجر کی پارلیمنٹ کے صدر اور دو اہم وزراء پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔سولہ ستمبر کو وزارتِ تجارت یا کسی بھی وزارت کے تعاون کے بغیر پاک نائیجر ٹریڈ کانفرنس ہو رہی ہے جس کا افتتاح نائیجر کے صدر اور اختتام وہاں کے وزیراعظم کریں گے۔احمد علی سروہی اقتصادی سفارت کاری کے ماہر ہیں مگر انہیں کسی بڑے ملک میں تعینات نہیں کیا جاتا۔ اکنامک ڈپلومیسی پر ان کی کتاب باقی سفیروں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ بقول فیضؔ؎ہم خستہ تنوں سے محتسبوکیا مال منال کا پوچھتے ہوجو عمر سے ہم نے بھر پایاسب سامنے لائے دیتے ہیںدامن میں ہے مشت خاکِ جگرساغر میں ہے خون حسرت مےلو ہم نے دامن جھاڑ دیالو جام الٹائے دیتے ہیں

 چیف جسٹس Chief justice    ملزم کے سمدھی 

اس کا انجام ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ جگر کے جن ٹکڑوں کے لیے اللہ کی مخلوق کی گردن پر پاؤں رکھ کر اللہ کی مخلوق کو نچوڑتا رہا، خون پیتا رہا‘ جگر کے ان ٹکڑوں میں سے کوئی کام نہ آیا۔ وہ سب بحر اوقیانوس پار کر گئے اور ایک عشرت بھری لگژری سے بھرپور زندگی گزارنے luxuryمیں مصروف ہو گئے۔

جن لوگوں کا خون چوستا رہا، وہ اپنی زندگی بھر کی خون پسینے کی کمائی کے پیچھے بھاگتے رہے، پامال ہوتے رہے، ٹھوکریں کھاتے رہے۔ ان کی حیثیت اُس مٹی کی تھی جو پاؤں کے نیچے آتی رہتی ہے۔ کبھی اس مٹی پر بوٹوں والے چلتے ہیں کبھی ڈھور ڈنگر! کبھی اس مٹی کو پانی بہا لے جاتا ہے اور یہ کسی گہرے گڑھے میں جا گرتی ہے‘ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس مٹی کا کوئی پرسان حال کبھی بھی نہیں ہو گا، تو وہ اندھا ہے یا .......احمق یا مجنون !

اس نے گھر بنایا تو ایسا کہ ایسٹ انڈیا کمپنیEast India Company

 کے لاٹ صاحب کا کلکتہ والا گھر اس گھر کے سامنے چمار گھر لگتا تھا۔ سالہا سال یہ گھر بنتا رہا۔ لوگ اس گھر کو بنتا، اوپر جاتا، چوڑا ہوتا دیکھتے رہے۔ دیکھنے والوں کو اس گھر کے سامنے اپنی بے بضاعتی کا احساس ہوتا۔ انہیں یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اس قصر کے سامنے زمین پر رینگنے والے کیڑے ہیں۔ راج، معمار، مزدور، بڑھئی، لوہار، نقاش، ہنر مند، روبوٹ بن کر کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شداد کی یہ جنت مکمل ہو گئی۔

پھر حساب کے دن کا آغاز ہو گیا۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ صبح سب کے لیے روشنی کا پیغام نہیں لاتی۔ یہ کچھ کے لیے نجات کا سبب بنتی ہے تو کچھ کے لیے عذاب کا۔ پو پھٹے غنچے کھل کر پھولوں کا روپ دھارتے ہیں اور یہ تڑکے کا وقت ہوتا ہے جب قیدی کو دار پر چڑھایا جاتا ہے! اِنَّ مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ -اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْب۔ ہائے وعدے کا وقت صبح ہے اور صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے! اسے بیماری لگ گئی! ایسی جس کا علاج روئے زمین پر نہ تھا۔ اربوں کھربوں کے اس مالک کو کوئی ایسا طبیب، کوئی جراح، کوئی وید، کوئی سنیاسی کوئی جوگی، نہ ملا جو تندرست ہونے میں اس کی مدد کرتا۔ ظاہر ہے کہ روحانی علاج بھی کیا گیا ہو گا۔ دعائیں، تعو یذ‘ پانی جس پر آیاتِ شفا پڑھ کر پُھونکی گئیں، کیا کچھ نہ ہوا۔ ایوب نبی بیمار ہوئے تھے تو پکار اٹھے میرے رب! مجھے لگ گئی بیماری ! اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ وہ پیغمبر تھے ۔ پیغمبر کے دامن کی شفافیت کا کیا ہی کہنا! کچھ بزرگ بیماری میں دعائے ایوب پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ نہیں پوچھتے کہ کسی کا حق تو نہیں مارا؟ کسی غریب کا مال تو نہیں ہڑپ کیا؟ کسی مزدور کی مزدوری تو تمہارے ذمہ نہیں؟ کسی رشتہ دار سے تعلق تو نہیں قطع کیا؟ کسی کی زمین، کسی کی پگڈنڈی، کسی کا کھیت تو نہیں دبایا ہوا؟ کسی کے مقروض تو نہیں؟ بہر طور کوئی دوا کارگر نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ اربوں کھربوں روپوں اور ڈالروں کی موجودگی میں اس کے سانسوں کی میعاد بڑھ نہ سکی۔ اب یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ پُر اسرار ، لا علاج بیماری کا سبب وہ چیخیں اور آہیں کیسے ہو گئیں جو فلک کے اُس پار پہنچیں! بجا فرمایا۔ کوئی ثبوت نہیں! کوئی گواہی نہیں! مگر اس امر کے شواہد بھی تو ناپید ہیں کہ پُراسرار ، لا علاج بیماری کا کوئی تعلق، کوئی کنکشن،

Connection

 چیخوں اور آہوں سے نہیں! ہاں تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں! صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے ! جو سمجھتا ہے کہ دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تو وہ خلق خدا کے ساتھ وہی کچھ کر کے دیکھے جو اس شخص نے کیا۔ پھر اگر اس کا انجام خوشگوار اور قابلِ رشک ہوا تو وہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب شمار ہو گا!

موت کا سُن کر لوگ جوق در جوق پہنچے۔ ان کے ہاتھوں میں پنج سورے تھے نہ تسبیحیں! وہ دعائے مغفرت کرنے آرہے تھے نہ پس ماندگان سے اظہار افسوس کے لیے۔ ان کے ہاتھوں میں بینر تھے جن پر مطالبات درج تھے اور بد دعائیں! وہ مرنے والے کو کوس رہے تھے۔ اپنی ڈوبی ہوئی رقوم مانگ رہے تھے‘ مگر وہ جو، ان کا مجرم تھا وہ تو اب خالی ہاتھ تھا۔ اس کے کفن میں کوئی جیب نہ تھی۔ افسوس وہ کچھ بھی نہ ساتھ لے جا سکا۔ سب کچھ پیچھے رہ گیا اور یہ سب کچھ جو پیچھے رہ گیا، دوسروں کے قبضے میں چلا گیا۔ اُس کی چَیک بُکیں، اُس کے لاکر، اُس کی تجوریاں، اس کی ملکیتی دستاویزات، اس کی کرنسیوں کے ڈھیر، سب اس کی آنکھیں بند ہونے کے بعد ایک ثانیے کے اندر اندر، اس کے نہ رہے۔ ہو سکتا ہے موت کے بعد وہ یہ مطالبات، یہ بد دعائیں، یہ وحشت ناک کوسنے سُن رہا ہو، ہو سکتا ہے وہ یہ بینر پڑھ رہا ہو مگر ایک تہی دست ، قلاش، کنگال، مفلوک الحال ، خراب و خوار شخص کسی کو کیا دے سکتا ہے۔ جب اس کا جنازہ پڑھا جا رہا تھا، جب اسے لحد میں اتارا جا رہا تھا، جب اس کے بدن سے کچھ اِنچ اوپر، پتھر کی سِلیں رکھی جا رہی تھیں، جب ان سلوں کے درمیان نظر آنے والے گَیپ گارے سے بھرے جا رہے تھے، جب منوں مٹی ڈالی جا رہی تھی، جب مٹی کا یہ ڈھیر قبر کی صورت اختیار کر رہا تھا تو یہ سارا وقت اس کے ہاتھوں زخمائے لوگ مسلسل مطالبے کر رہے تھے ، بد دعائیں دے رہے تھے اور جھولیاں اُٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔

مگر یہ کہانی پوری نہیں ہوئی۔ اس کہانی کا ایک حصہ رہتا ہے۔ جب یہ معاملہ اُس وقت کے چیف جسٹس کے پاس گیا تھا تو انصاف یوں ظہور پذیر ہوا تھا کہ ملزم کا بیٹا یف جسٹس کی دختر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ گیا تھا۔ سو، کہانی ابھی نامکمل ہے۔ کہانی منتظر ہے۔ کہانی اپنا انجام دیکھنے کے لیے ساعتیں گِن رہی ہے۔

یاد نہیں مرزا فرحت اللہ بیگ نے یہ قصہ اپنے اوپر چسپاں کیا ہے یا کسی اور کردار پر۔ بہر حال قصہ یوں ہے کہ قانون کے امتحان میں سوال آیا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو قتل کر دیا۔ قتل کے دو گواہ موجود ہیں۔ مقتول کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بچے ہیں۔ کیس کا فیصلہ کرو۔ ہونہار امیدوار نے فیصلہ کیا کہ دونوں بچوں کو یتیم خانے میں داخل کرا دیا جائے۔ گواہوں کو سیدھا جیل میں بند کر دیا جائے۔ رہے قاتل اور مقتول کی بیوہ، تو ان دونوں کی شادی کر دی جائے! انصاف کی بھی کیا کیا صورتیں ہیں! اندھے کوتوال لگ جاتے ہیں۔ توتلے داستان گو بن جاتے ہیں ۔ حکم ہوتا ہے کہ آئندہ نائیجیریا، زیمبیا اور چاڈ، یورپ کا حصہ سمجھے جائیں گے۔ نقشے میں ہمالہ کو بحرالکاہل کے درمیان دکھایا جائے گا۔ دنیا کا گرم ترین مقام الاسکا ہو گا اور سرد ترین جیکب آباد! جس وقت پُل منہدم ہوا اُس وقت پُل پر سے ہاتھی گزر رہا تھا۔ عین اُسی وقت چیونٹی بھی پُل پر چل رہی تھی۔ چنانچہ پُل گرانے کی فرد جرم چیونٹی پر عائد کی گئی۔ پرانی بات ہے۔ ہمارے دوست اجمل نیازی صاحب نے اخبار میں لکھا کہ اُس وقت کا پنڈی کا کمشنر چونسٹھ پلاٹوں کا مالک ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تریسٹھ بھی نہیں پورے چونسٹھ! اس کے فوراً بعد کمشنر صاحب کا درجہ بلند تر کر کے انہیں پی ٹی وی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ یہ عجائبات کی سرزمین ہے۔ یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ ماشکی بادشاہ بن سکتا ہے۔ کینیڈا کا طبیب آئل منسٹر لگ سکتا ہے اور قاضیٔ شہر ملزم کا سمدھی بن سکتا ہے!

ارطغرل پر ہونے والی تنقید کا دلیل اور ادب کی دنیا میں کیا کوئی اعتبار ہے؟ آئیے ناقدین کے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

ارطغرل پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ ایک غیر مقامی ڈرامہ ہے جب کہ ہمیں اپنے مقامی ہیروز اور مقامی کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔پاکستانی کلچر کے لیے نومولود پاکستانیوں کی یہ وارفتگی آدمی کو گدگدا دیتی ہے۔یہی حضرات تھے جو کل تک ہمیں بتاتے تھے کہ آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور ہم گلوبل ولیج کے شہری اور گلوبل فیملی کا حصہ ہیں۔مغربی تہذیب کے ویلنتائن ڈے اور ہیلووین جیسے مظاہر پر جب تنقید ہوتی تھی یہ سمجھانے آ جاتے تھے کہ مقامی سوچ سے نکل کر تھوڑے گلوبل ہوجائیے صاحب۔ اب اسی گلوبل ولیج کے ایک محلے سے ایک ڈرامہ آیا ہے تو تو احباب ’’ انتہائی مقامی‘‘ ہو گئے ہیں اور انہیں پاکستانی کلچر اور مقامی ہیروز کی یاد ستانے لگ گئی ہے۔
کبھی آپ نے سوچا یہ’ عالمی ادب سے انتخاب ‘کی اتنی پزیرائی کیوں ہوتی ہے؟ پائلو کوہلو کی الکیمسٹ دنیا بھر مین درجنوں زبانوں میں ترجمے کے ساتھ کیوںفروخت ہوئی؟آرول کا اینیمل فارم دنیا بھر میں شوق سے کیوں پڑھا جاتا ہے؟ گبریل گارشیا مارکیز، کافکا ، دوستو فسکی جیسے لکھاری دنیا بھر میں کیوں مقبول ہوئے؟کیا کبھی ہم نے کہا کہ ہم کیٹس کو نہیں پڑھیں گے ہمارے لیے منیر نیازی کافی ہے ؟ادب اور آرٹ میں ایک آفاقی اپیل ہوتی ہے اور وہ سب کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ ایک ارطغرل کے آنے پر ہی ہماری گلوبل سوچ کو تپ دق ، تشنج ، خسرہ ، کالی کھانسی اور دیگر مہلک بیماریاں کیوں لاحق ہو گئی ہیں؟مغربی تہذیب کے ہر رنگ کو تو گلوبل ولیج کی قوس قزح سمجھا جاتا ہے ، ترکی کا ایک ڈرامہ رنگوں کی وحشت کیسے ہو گیا؟

ارطغرل پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ حقیقت سے دور ایک فرضی کہانی ہے۔سوال یہ ہے کہ ڈرامہ ہوتا کیا ہے؟ ڈرامہ نام ہی حسن تخیل کا ہے۔ افلاطون نے اس تخیل کو Twice removed from reality قرار دیا تھا۔ڈرامہ انسائیکلو پیڈیا نہیں ہوتا۔ یہ کسی کردار کو لے کر حسن تخیل سے مجسم کر دینے کا نام ہوتا ہے۔ہالی وڈ نے جو ’’ ایئر فورس ون ‘‘ بنائی تھی جس میں امریکی صدر کا جہاز ہائی جیک ہو جاتا ہے اور پھر اکیلے صدر محترم کسی ٹارزن کی طرح دہشت گردوں سے لڑتے ہیں، کیا یہ حقیقت تھی؟ کیا سچ میں یہ جہاز ہائی جیک ہوا تھا اور صدر ذی وقار سپر مین کی طرح بروئے کار آئے تھے؟ارطغرل تو بہر حال ایک کردار تھا۔ اس سے جڑے حسن تخیل کو آپ غیر حقیقی کہہ لیجیے لیکن اس حقیقت سے آپ کیسے انکار کریں گے کہ قائی قبیلے نے صدیوں دنیا پر راج کیا تھا اور مغرب سے آنے والے سفیر قائی قبیلے کے بادشاہ کو ’’ شہنشاہ عالم‘‘ کہہ کر عرضیاں پیش کیا کرتے تھے۔
ارطغرل پر ہونے والا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اس میں خواتین کے جھگڑے اور سازشیں بہت ہیں جسے دیکھنا ہمارے ان ’’مردان کار‘‘ کی مردانگی کی توہین ہے۔یہ اعتراض بڑا ہی دلچسپ ہے ، اسے روشن خیالی کا الٹرا سائونڈ ہی سمجھیے ۔حقوق نسواں کے پرچم لہرانے والوں اور عورت کی برابری کے دیوان لکھنے والوں کو یہ برداشت نہیں ہو پا رہا ہے کہ قائی قبیلے کے نظم اجتماعی میں عورت کا کردار اتنا غیر معمولی کیوں ہے۔ ارطغرل میں خواتین کی کشمکش پاکستان کے بے ہودہ ڈراموں کی طرح ساس بہو کے جھگڑوں پر مشتمل نہیں ہے ، یہ کشمکش اجتماعی نظم میں عورت کے کردار کے حوالے سے ہے۔ حائمہ ایک پورے قبیلے کی سرداری کرتی ہیں اور جرگوں میں بیٹھتی ہیں ،اصلحان اپنے قبیلے کی سردار ہے۔یہ ایک قدیم مسلم تہذیب میں عورت کا کردارہے۔آپ ہی بتائیے اس کی تحسین ہونی چاہیے یا اس پر تنقید ہونی چاہیے؟

چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اس ڈرامے کے کردار اپنی حقیقی زندگی میں بہت مختلف ہیں۔ ناقدین اگر غور فرمائیں تو انہیں معلوم ہو کہ یہ تو ان اداکاروں کی اداکاری کا کمال ہے کہ انہوں نے اپنے دیکھنے والوں کو یوں گرفت میں لے لیا ہے کہ اب ان کی نظروں میں کچھ اور جچتا ہی نہیں۔کسی اداکار کو اگر لوگ ڈرامے میں اس کے کردار کے علاوہ کسی رنگ میں قبول نہ کریں تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اس کا مطلب ہوتا اس نے اداکاری میں کمال کر دیا۔ ویسے کیا ہالی وڈ کے اداکار اپنی حقیقی زندگی میں بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے فلموں میں کمالات دکھا رہے ہوتے ہیں؟تنقید ضرور کیجیے لیکن اس سے پہلے اداکاری اور ڈارمہ آرٹ کے بارے میں اپنی کم علمی کا ازالہ فرما لیجیے۔

ارطغرل پر پانچواں اعتراض یہ ہے کہ اس میں ترک قوم پرستی نمایاں ہے۔ یہ بھی بے بنیاد اعتراض ہے۔ عرب قوم پرستی کے جواب میں ترک قوم پرستی وہ تھی وہ اتا ترک نے اختیار کی تھی۔عرب اقوام کے پرچموں میں آج بھی وہ قوم پرستی موجود ہے اور ان کے پرچم آج بھی وہی ہیں جو عرب بغاوت کے ایام میں تھے۔ارطغرل میں ترک قوم کی شناخت ضرور ہے مگر یہ قوم پرستی نہیں۔ غالب پہچان اسلام ہے اور ترکوں کا اظہار تفاخر ترک مسلمانوں کا ہے ۔ ویسے کیا ہالی وڈ کی فلموں میں امریکہ اور امریکی افواج کے قصیدے بیان نہیں کیے جاتے؟ کیا کبھی اس قوم پرستی پر بھی کسی نے تنقید کی؟

اطغرل پر چھٹا اعتراض یہ ہے کہ اس ڈرامے سے تشدد اور انتہا پسندی پھیلے گی؟ تو کیا ہالی وڈ کی’’ وار موویز ‘‘ کا تعلق پرفارمنگ آرٹ سے ہے اور وہ لوگوں کو رقص کی تربیت دینے کے لیے تیار کی جاتی ہیں؟تیر اور تلوار سے آپ کو تشدد نظر آنے لگا ہے تو ہالی وڈ کی پلاٹون ، انگلوریس باسٹرڈز، بلیک ہاک دائون اور بی ہائنڈ دی اینیمی لائنز جیسی فلمیں آپ کو راگ اور رقص سے لطف اندوز کرنے کے لیے بنائی گئیں؟ذراکارل بوگس کی ہالی وڈ وار مشین تو پڑھ کر دیکھیے۔وحشت ، تشدد ، قتل ، اور جنگی جنون کے فروغ میں ہالی وڈ کا کوئی مقابل دور دور تک نظر آجائے تو بتائیے گا۔

اعتراضات ابھی باقی ہیں اور اپنا ترکش بھی خالی نہیں۔ کالم کی تنگنائے البتہ کہہ رہے رہی ہے کہ آج اتنا ہی کافی ہے۔غزل البتہ باقی ہے۔ مقطع کسی دن پر اٹھا رکھتے ہیں۔

یہ تو من مرضی کے سودے ہیں،زبردستی نہیں
حرف راز - اوریا مقبول جان

ٹھیک ویسا ہی منظر تقریباً انیس سال بعد لاتعداد کیمروں اور خبر کی تلاش میں سرگرداں رپورٹروں کے سامنے تھا۔ حیرت میں گم کردینے والا ایک ایسا لمحہ کہ جب جہاز سے اترتی ہوئی اٹلی(Italy) کی پچیس سالہ شوخ و چنچل لڑکی سبز رنگ کے ایک خوشنما حجاب اور عبایا میں ملبوس تھی جس نے اس کا تمام جسم ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ (Alshabab) اٹھارہ ماہ صومالیہ کی الشباب اسلامی جہادی تنظیم کی اسیری میں گزار کر آئی تھی۔ اسے کینیا کے ہوٹل سے اغوا کرنے والا ایک پیشہ ور اغوا کار تھا۔ اس غیر مسلم ملک میں اغواء برائے تاوان مدتوں سے ایک پیشہ اور دولت کمانے کا آسان ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ کینیا سے صومالیہ کیسے پہنچی اور الشباب کے ارکان کے پاس کیسے آگئی یہ ایک ایسا عقدہ ہے جسے حل ہونا ابھی باقی ہے۔ لیکن اس کے پہلے انٹرویو نے مغرب ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ان اسلام دشمن پراپیگنڈے کے ماہرین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جو اس کی رہائی کی خبر سے مصالحے دار مواد تلاش کر رہے تھے۔ اس نے کہا '' میں نے اسلام اپنی مرضی اور آزادی سے قبول کیا ہے اور مجھ پر اغواء کاروں کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ انہوں نے ہمیشہ مجھ سے بہترین انسانی رویوں کے ساتھ برتاؤ کیا۔ یہ غلط ہے کہ مجھے وہاں زبردستی شادی کرنے یا جسمانی تعلق رکھنے کے لیے کہا گیاتھا۔ میں کسی بھی قسم کی جسمانی پابندیوں میں جکڑی ہوئی نہیں تھی اور نہ ہی مجھ پر کسی قسم کا ٹارچر کیا گیا''۔ یہ بیان سن کر سب کے چہرے لٹک گئے اور بات کا رخ دوسری جانب موڑ دیا گیا کہ اٹلی کی حکومت دوسرے ملکوں میں جاکر کام کرنے والے اپنے شہریوں، خصوصا امدادی کارکنوں کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے اور حکومت نے جو تاوان اسے چھڑانے کے لیے ادا کیا ہے وہ دہشت گردی کے کام آئے گا۔کمال کی بات ہے کہ یہ فقرے اٹلی کے صحافی اور سیاستدان بول رہے ہیں،اس سرزمین کے صحافی جہاں کے مافیاز کا سب سے بڑا دھندہ ہی اغوا برائے تاوان کا تھا۔

پچیس سالہ سیلویا رومانوی (Silvia Romano) جس کا نام اب عائشہ ہے، اس نے ویسے ہی دنیا کو حیران کر دیا جیسے 8 اکتوبر 2001ء کو تورخم بارڈر پر 43 سالہ برطانوی صحافی ایوان رڈلی (Yovonne Riddly) نے کر دیا تھا جس کا نام اب مریم ہے۔ وہ تو وقت ہی بہت عجیب تھا۔ گیارہ ستمبر 2001 ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کو ابھی چند ہی دن ہوئے تھے کہ جب 28 ستمبر کو ایوان رڈلی کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔ اس وقت دنیا بھر کا میڈیا طالبان کی ایک اور تصویر پیش کر رہا تھا۔ ہر کوئی انہیں خوفناک دہشت گرد اور انسانیت کا دشمن بتاتا تھا۔ رڈلی کی گرفتاری پر پہلی حیرانی تو مغربی دنیا اور امریکہ کو اس وقت ہوئی جب پاکستان میں افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ طالبان نہ کوئی تاوان مانگ رہے اور نہ ہی اس کی رہائی کسی رعایت سے مشروط ہے۔ انہیں صرف ایک ثبوت چاہیے کہ ایوان ایک مستند صحافی ہے۔ کیوں کہ اسلام کے اصولوں کے مطابق عام شہریوں اور جاسوسی کرنے والوں کے درمیان واضح فرق رکھا جاتا ہے۔ اس ثبوت کے ملنے کے فورا بعد اسے رہا کردیا گیا۔ جیسے ہی وہ تورخم بارڈر پر اپنی گاڑی سے نکلی تو فلیش لائٹس، اور لاتعداد مائیکوں کے سامنے اس سے سب سے پہلے یہ سوال پوچھا گیا، '' طالبان کا آپ کے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ ایوان نے فورا جواب دیا، ''انتہائی مہذب اور شریفانہ''۔ دنیا بھر کا پریس وہاں جمع تھا جو گذشتہ چھبیس دن سے طالبان کو خونخوار درندے کے روپ میں پیش کر رہا تھا، ان کے لئے یہ جواب ایک دوسرے گیارہ ستمبر سے کم نہ تھا۔ ایوان کے اس جواب نے ان کے جھوٹ کے بنائے گئے میڈیا ٹاورز کو زمین بوس کر دیا تھا۔ ایوان کی یاداشتیں اگلے دن سے ہی اخبارات میں شائع ہونا شروع ہوگئیں تھیں۔ یہ ڈائری اس نے طالبان کی قید میں گزرنے والے گیارہ دنوں کے بارے میں تحریر کی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ سرخ و سپید رنگت، سیاہ کالی چمکدار گھنی داڑھی اور زمرد کی طرح سبز آنکھوں والے طالبان جن کو دیکھ کر کسی بھی یورپی لڑکی کا دل قابو میں نہ رہے، وہ میرے سامنے ایسے نظریں جھکائے کھڑے رہتے جیسے کوئی مجرم ہوں۔ وہ خود بھوکے رہتے مگر مجھے کھلاتے۔ وہ مجھ سے ایسی عزت و احترام سے پیش آتے تھے جیسے انہوں نے مجھے نہیں بلکہ میں نے انہیں گرفتار کیا ہوا ہے''۔ ایوان رڈلی جو اب مریم کہلاتی ہے، اس سے میری ملاقات لندن کے علاقے بارکنگ میں منعقدہ ایک تقریب میں ہوئی جہاں ہم دونوں اولڈ ھم میں قائم کیے جانے والے یورپین اسلامک سنٹر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے لوگوں کا لہو گرما رہے تھے۔ اس کا اسلام کے ساتھ تعلق اور جوش و جذبہ دیکھ کر میں حیران ہوا اور اپنے تاثر کو زائل کرنے کے لئے اس سے صرف ایک سوال کیا، کہ کیا آپ سٹاک ھوم سنڈروم (Stockholm Syndrom) کا شکار تو نہیں ہوئیں اور اس قسم کے نفسیاتی اثر کے تحت آپ نے اسلام قبول تو نہیں کیا۔ اس نے پہلے نفی میں سر ہلایا، پھر زور سے'' نو'' کہا اور جواب دیا کہ میں نے رہائی کے دو سال بعد اسلام قبول کیا ہے۔ میں افغانستان سے صرف حیرت لے کر آئی تھی کہ یہ اسلام کیسا مذہب ہے جو ان جنگجوؤں کو جنہیں مارنے کے لیے پوری دنیا اکٹھی ہو چکی ہے، اسقدر مہذب، بااخلاق اور شریف النفس رکھ سکتا ہے۔ میں نے دو سال قرآن کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ قرآن کی تعلیمات ہی ہیں جو انسان کو اس قدر تبدیل کر سکتی ہیں۔ اسی لیے میں نے اسلام کے عظیم اور بہت بڑے خاندان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا''۔ مریم رڈلی وہی خاتون ہے کہ جب پوری مسلم امہ کے حکمرانوں اور صحافیوں کی زبانیں گنگ تھیں،تو اس وقت اس نے عافیہ صدیقی پر ہونے والے بگرام جیل میں جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اسی آواز کا نتیجہ تھا کہ امریکیوں کو عافیہ صدیقی کی گرفتاری واضح کرنا پڑی تھی۔
ہوسکتا ہے کچھ دنوں بعد سیلویا رومانو جو اب عائشہ رومانوکہلاتی ہے کا بھی ایسا ہی ایک نفسیاتی تجزیہ دیکھنے کو مل جائے جیسا مریم رڈلی کے بارے کیا گیا تھا کہ وہ سٹاک ہوم بیماری کا شکار ہو چکی ہے۔ یہ اصطلاح دراصل ایک امریکی وکیل نے ایک خاتون مجرم کو بچانے کے لئے تراشی تھی۔ کیلفورنیا کے اخبار کی پیٹی ہارسٹ ''Patty Hearst'' کو کچھ انقلابی قسم کے جنگجوؤں نے اغواء کیا، وہ ان کے درمیان ایسی گھل مل گئی، کہ ان کے ساتھ مل کر بینک لوٹنے لگی۔جب پکڑی گئی تو ہوشیار وکیل نے اسے سزا سے بچانے کے لیے سویڈن کے ماہر نفسیات نلز بیجی روت ( NILS Bejerot) کی اس اصطلاح کو استعمال کیا جو اس نے 1970 ء میں سٹاک ہوم میں ہونے والی ایک بینک ڈکیتی کے دوران ڈکیتوں کی محبت میں گرفتار لڑکی کا نفسیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں استعمال کی تھی۔ سٹاک ہوم کے ایک بنک پر ڈاکہ پڑا تو یہ لڑکی وہاں موجود تھی کہ وہاں پولیس آگئی۔ ڈاکو چاروں جانب سے گھر چکے تھے اور اس لڑکی کو بہت سنبھال کر رکھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہی ان کی زندگی کی ضمانت تھی۔ اس لڑکی نے رہائی کے بعد ان کے خلاف عدالت میں بیان دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ انہوں نے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا ہے۔ اٹلی کا میڈیا ابھی تک بحث اس بات پر الجھا ہوا ہے کہ تاوان کیوں ادا کیا گیالیکن جب ذرا اس صدمے سے نکلے گا تو نفسیاتی تعبیریں کرنے لگے گا۔ لیکن عائشہ رومانو کا اسلام قبول کرنا اور خود کو اس رنگ روپ میں ڈھالنا ایک ایسی تبدیلی ہے جو نفسیات دانوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ عائشہ رومانو جب ایئرپورٹ سے اپنے گھر جا رہی تھی تو شہر کے تمام چرچ گھنٹیاں بجا رہے تھے۔ انہیں کیا خبر کہ جن کانوں نے اذان میں اللہ اکبر کی عظمت کی صدا سن لی ہو اور جس دل میں اسلام کی حقانیت رچ بس گئی ہو، وہاں چرچ کی گھنٹیاں اور بالکونیوں پر کھڑے ہوکر پھول نچھاور کرنے سے دل نہیں بدلا کرتے۔